طرف اشارہ ہے کہ جس شخص کو لوگوں کے اُمور کا حاکم بنایا جائے اسے چاہئے کہ اپنی ظاہری وضع قطع اور خوبصورتی کا خاص خیال رکھے تاکہ لوگوں کی نظروں میں بھَلا لگے اور لوگ اس سے مُتَنَفِّر نہ ہوں بلکہ اپنی حاجات میں اس کی طرف رجوع کریں اور اس حدیثِ مبارک سے شملے کا مستحب ہونا بھی ثابت ہوتا ہے ۔ حضرت علّامہ جلال الدّین سیوطی شافعی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے عمامے کا شملہ چھوڑنے کو اس امت کا خاصہ فرمایا ہے۔
(فیض القدیر، باب کان ، ۵/۲۴۴، تحت الحدیث:۶۹۲۶)
عمامے کا شملہ بائیں جانب رکھنا
حضرت علامہ سیّد محمد بن جعفر کَتَّانی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : روایات میں عمامہ کا شملہ لٹکانے کے محل (یعنی جگہ)میں اختلاف ہے بعض میں ہے کہ دونوں کندھوں کے درمیان ہو ،بعض میں ہے کہ بائیں کندھے پر ہو اور بعض میں ہے کہ دائیں کندھے پر ہو اور بعض میں ہے کہ دو شملے ہوں ایک آگے کی جانب اور ایک پیچھے کی جانب ۔ بعض نے کہا کہ ان سب صورتوں میں اختلاف سنّت پر عمل کے حصول کی وجہ سے ہے ۔لیکن ان سب صورتوں میں اولیٰ اور افضل شملے کا دونوں کندھوں کے درمیان رکھنا ہے کیونکہ ایسا کرنا خود نبیٔ ٔکریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہ و َسَلَّمَ سے ثابت ہے جیسا کہ مسلم وغیرہ کی حدیثِ مبارکہ