دلالت کرتا ہے کہ تابعینِ عُظّام عماموں کے شملے سامنے لٹکایا کرتے تھے۔ (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/۲۷۸) علامہ بدرالدین عینی حنفی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے اتنا اضافہ فرمایا ہے کہ امام مالک عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الخَاِلق نے فرمایا: میں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر رَضِی اللہ تَعَالٰی عَنہُم کے سوا کسی کو پیٹھ پر شملہ لٹکائے نہیں دیکھا۔ مزید فرمایا یہ حرام نہیں ہے ، لیکن سامنے کی جانب شملہ لٹکانا زیادہ اچھا ہے۔
(عمدۃ القاری، کتاب اللباس، باب العمائم، ۱۵/۲۲)
{2}حضرت علامہ ابوعبداللہ محمد بن محمد بن محمد مالکی المعروف ابن الحاج عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الوَہَّاب حضرت سیّدنا امامِ مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :’’ تعجب ہے ان لوگوں پر کہ جو آئمہ مُتَقَدِّمین اور سلفِ صالحین کی ایسی واضح نصوص کے باوجود بھی عمامہ کا شملہ سامنے لٹکانے کو بدعت قرار دیتے ہیں۔‘‘ (المدخل ، فصل فی اللباس، الجزء الاول، ۱/۱۰۴)
{3}حضرت سیّدنا اسماعیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’میں نے حضرت سیّدنا قاضی شُرَیح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو عمامہ شریف باندھے دیکھا آپ نے اس کا شملہ پیچھے لٹکا رکھا تھا۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب اللباس،