میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سلام کرنا بلا شبہ ہمارے پیارے آقا مکّی مدنی مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم کی بہت ہی عظیم سنّت ہے۔ جس میں بڑوں کے علاوہ چھوٹوں کو بھی سلام کیا جاتا ہے جیسا کہ صحابیٔ رسول رَضَیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عملِ مبارک سے ظاہر ہوا۔ لہٰذا ہمیں بھی اپنے بزرگوں کی طرح چھوٹے بچوں کو سلام کرنے کی بھی عادت بنانی چاہیے تاکہ انہیں بھی اس سنّتِ عظیمہ کی سوجھ بوجھ پیدا ہو اور وہ بھی اس سنّت کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ کے عطا کردہ مدَنی انعامات میں سے ایک انعام یہ بھی ہے کہ ’’کیا آج آپ نے گھر، دفتر، بس، ٹرین وغیرہ میں آتے جاتے اور گلیوں سے گزرتے ہوئے راہ میں کھڑے یا بیٹھے ہوئے مسلمانوں کو سلام کیا۔‘‘
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد
تابعین کے عماموں کے شملے
{1}حضرت سیّدنا امام مالک عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الخَاِلق فرماتے ہیں : میں نے اپنے زمانے میں کسی کو بھی دونوں کندھوں کے مابین شملہ لٹکاتے نہیں دیکھا بلکہ سبھی نے عمامے کا شملہ اپنے سامنے لٹکایا ہوتا تھا۔ یہ قول نقل کرنے کے بعد امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں کہ امام مالک کا یہ قول