تَعَالٰی عَنہُما کو عمامہ باندھتے دیکھا تو آپ نے اپنے عمامے کا ایک بالشت شملہ کندھوں کے درمیان اور ایک بالشت اپنے سامنے لٹکایا۔ (ایضاً)
حضرت علامہ محمد بن عثمان ذہبی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے اسی روایت میں عمامے کے رنگ کا ذکر بھی فرمایا ہے کہ وہ سیاہ عمامہ شریف تھا۔ (سیر اعلام النبلاء ، من صغار الصحابۃ، عبد اللہ بن عباس البحر، ۴/۴۵۴)
{4}حضرت سیّدنا محمد بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُما کی یوں زیارت کی کہ آپ رَضِی اللہُ تَعَالٰی عَنہُما نے عمامہ شریف باندھاہوا تھا جس کا ایک شملہ آگے اور ایک پیچھے لٹکایا ہوا تھا۔حضرت سیّدنا محمد بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں : میں نہیں جانتا ان میں سے کون سا شملہ لمبا تھا۔ (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/۲۷۸)
{5}حضرت سیّدنا عاصِم بن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیّدنا ابن زبیر رَضِی اللہُ تَعَالٰی عَنہُما کو سیاہ عمامہ شریف باندھے دیکھا آپ نے ایک ہاتھ کے قریب عمامے کاشملہ اپنی پشت پر لٹکا رکھا تھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب اللباس، باب فی العمائم السود ، ۱۲/۵۳۸، حدیث:۲۵۴۵۶)