طریقہ گردن کو سردی اور گرمی سے محفوظ رکھتا ہے۔ نیز گھوڑے، اونٹ پر سواری اور دشمن پر حملے کرتے ہوئے عمامے میں تحنیک اَثبَت ہے۔ (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/۲۸۱)
صحابۂ کرام کے عماموں کے شملے
{1}حضرت سیّدنا سَائِب بن یزید عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ المَجِید فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا آپ نے اپنے عمامے کا شملہ اپنی پشت پر لٹکا رکھا تھا۔ (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، آداب التعمم، الجز۱۵، ۸/۲۰۵، حدیث :۴۱۹۰۱)
{2}حضرت سیّدنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’مجھے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عمامہ دیکھنے والے نے بتایا کہ آپ نے شملہ آگے اور پیچھے لٹکا رکھا تھا۔‘‘ (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/۲۷۸)
{3}حضرت سیّدنا ابو اَسد بن کُریب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عباس رَضِی اللہ