شملے کی ایک صورت تحنیک
ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کبھی تحنیک فرمایا کرتے تھے۔ اس کی صورت یہ ہے شملے کو بائیں جانب سے ٹھوڑی کے نیچے سے نکال کر دائیں جانب عمامے میں اَٹکا لینا۔ (مدارج النبوت ،باب یازدہم درعادات شریف، نوع دوم در لباس آنحضرت ، وصل عمامہ شریف ، ۱/۴۷۱)
بعض تابعینِ عُظّام اور علماء و محدثینِ کرام رَحِمہُمُ اللہُ السَّلام نے اس سنّت کو اپنا معمول بنا لیا تھا جیسا کہ حضرت سیّدنا امام مالک رَحمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَسلَّم کی مسجد میں ایسے ستر افراد دیکھے کہ جنہوں نے عمامے کو یوں باندھ رکھا تھا کہ شملہ ٹھوڑی کے نیچے سے نکال کر دائیں جانب عمامے میں اَٹکا رکھا تھا وہ ایسے امانت دار تھے کہ ان میں سے کسی کو بھی بیتُ المال پر مامور کیا جا سکتا تھا۔ دوسری روایت میں یوں ہے کہ اگر ان کے وسیلے سے بارش کی دعا کی جاتی تو لوگ ضرور سیراب کیے جاتے۔ (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/۲۸۰)
امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی حافظ عبدالحق اِشبِیلی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ تحنیک اولیٰ ہے اس لیے کہ یہ