Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
150 - 479
 سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ واٰلہ وَسَلَّم کی بارگاہ میں سیاہ عمامہ باندھے حاضر ہوئے ،آپ کے عمامے کے دو شملے تھے جنہیں آپ نے پشت مبارک پر لٹکا رکھا تھا۔ (مسند الرویانی، ۱/۳۷۲، حدیث:۵۶۹) 
اعلٰی حضرت کا دو شملوں والا عمامہ
	میرے آقا  اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت ، مجددِ دین و ملت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن عمامے کے دو شملے چھوڑنے کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : (عمامے کے دو شملے چھوڑنا) حدیث سے میرے خیال میں ہے کہ خود حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلیہ وَسَلَّم نے دو شملے چھوڑے ہیں۔ (مسلم، کتاب الحج ، باب جواز دخول مکۃ بغیر احرام، ۱/۴۴۰)  خیال ہے کہ (حضرت سیّدنا) معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر دستِ اقدس سے عمامہ باندھا اور دو شملے چھوڑے اور (حضرت سیّدنا) عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر اپنے دستِ انور سے عمامہ باندھنا اور آگے پیچھے دو شملے چھوڑنا سنن ابی داؤد میں ہے۔ (ابوداؤد، کتاب اللباس ، باب فی العمائم، ۴/۷۷، حدیث:۴۰۷۹)  تو یہ (دو شملے چھوڑنا) سنّت ہوا نہ کہ معاذاللہ بدعتِ سیئہ (بُری بدعت)۔ فقیر اسی سنّت کے اِتِّباع سے بارہا دو شملے رکھتا ہے۔ مگر شملہ ایک بالشت سے کم نہ ہونا چاہئے۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/۱۹۹)