حضرت سیّدنا جَعْفَر بِن عَمْرْو بِن حُرَیْث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں گویا اب بھی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو اس طرح دیکھ رہا ہوں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم منبر پر سیاہ عمامہ شریف سجائے اس طرح تشریف فرما ہیں کہ اس کے دونوں شملے پشت مبارک پر لٹک رہے ہیں۔
(مسلم، کتاب الحج ، باب جواز دخول مکۃ بغیر احرام، ۱/۴۴۰)
پشت پر ڈھلکا سرِ انور سے شملہ نور کا
دیکھیں موسیٰ طور سے اُترا صحیفہ نور کا
(۲)کبھی کبھار عمامے کے دو شملوں میں سے ایک سامنے کی جانب جبکہ دوسرا پشتِ مُنَوَّر پر ہوا کرتا تھا چنانچہ
حضرت سیّدنا ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم جب عمامہ شریف باندھتے تو اپنے آگے اور پیچھے شملہ لٹکاتے۔ (معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ احمد، ۱/۱۱۰، حدیث:۳۴۲، مجمع الزوائد، کتاب اللباس، باب ما جاء فی العمائم، ۵/۲۰۹، حدیث:۸۴۹۹)
جبریلِ امین کے عمامے کے دو شملے
حضرت سیّدنا ابو موسیٰ اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ