Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
148 - 479
اللباس، باب فی سدل العمامۃ بین الکتفین، ۳/۲۸۶، حدیث:۱۷۴۲) 
	حضرت علامہ مُلَّا علی قاری عَلَیہ رَحمَۃُاللہِ الْبَارِی نے اسی صورت کو افضل قرار دیا ہے۔ (جمع الوسائل ، باب ما جاء فی عمامۃ رسول اللہ، ۱/۲۰۶) 
	مُفسِّر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی عمامہ شریف کا کنارہ مبارکہ جسے فارسی میں شِملَہ اور عربی میں عَذَبَہ کہتے ہیں نصف پیٹھ تک ہوتا تھا اور دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا رہتا تھا خواہ پیٹھ پر یا سینہ پر، مگر سینہ پر ہونا افضل ہے یعنی سامنے۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۶/۱۰۵) 
سَیِّدُ الْمَلٰئِکَہ کا ایک شملے والا عمامہ
	حضرت سیّدنا تَمِیم بن سَلَمَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ایک روز میں سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھا۔ ایک شخص جس نے عمامہ شریف باندھ رکھا تھا اور اس کا شملہ اپنے پیچھے لٹکا یا ہوا تھا ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا۔ میں نے اس شخص کے بارے میں اِستِفسَار کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا: یہ جبریلِ امین (عَلَیْہِ السَّلَام) تھے۔ (اسدالغابہ،حرف التائ، تمیم بن سلمۃ، ۱/۳۲۳، رقم:۵۲۵) 

دو شملوں والا عمامہ 
(۱)کبھی عمامہ مبارک کے دو شملے ہوتے جو پشتِ اطہر پر نور برساتے تھے جیسا کہ