Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
146 - 479
عمامے کا شملہ کہاں تک رکھنا مسنون ہے؟ 
	میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال (کہ دستار کا شملہ کہاں تک رکھنا مسنون ہے؟ اور کہاں تک رکھنا مباح اور کہاں تک رکھنا ممنوع ہے) کے جواب میں لکھتے ہیں : شملے کی اَقَل مقدار چار اَنگُشت (یعنی انگلیاں ) ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک ہاتھ اور بعض نے نشست گاہ (یعنی بیٹھنے کی جگہ) تک رخصت دی یعنی اس قدر کہ بیٹھنے سے مَوضعِ جُلُوس (یعنی بیٹھنے کی جگہ) تک پہنچے اور زیادہ راجح یہی ہے کہ نصف پشت سے زیادہ نہ ہو جس کی مقدار تقریباً وہی ایک ہاتھ ہے۔ حد سے زیادہ داخلِ اِسرَاف ہے۔ 
(فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/۱۸۲) 
شملے کی اقسام 
	میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن دَستُورُ اللِّبَاس کے حوالے سے مزید نقل فرماتے ہیں : فَتَاوٰی حُجَّۃ اور جَامِع میں نقل کیا گیاہے کہ شملہ کی چھ اقسام ہیں : (۱)قاضی کے لئے 35 اَنگُشت کے بمقدار (۲)خطیب کے لئے بمقدار 21 اَنگُشت (۳)عالم کے لئے بمقدار 27 اَنگُشت (۴) متعلم کے لئے بمقدار 17اَنگُشت (۵) صوفی کیلئے بمقدار 7 اَنگُشت (۶)عام آدمی کے لئے بمقدار 4 اَنگُشت۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/۱۸۲)