Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
145 - 479
 مستحب ہے اور شملہ لٹکانے کو نہ لٹکانے پر ترجیح حاصل ہے جیسا کہ حدیثِ مبارک سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر عمامہ شریف باندھا اور اس کاشملہ چھوڑ کر فرمایا:’’ عمامہ ایسے باندھا کرو کہ یہ اَعرَب واَحسن ہے۔‘‘ اس حدیثِ پاک سے ثابت ہوا کہ عمامے کا شملہ چھوڑنا مستحب اور اولیٰ ہے جبکہ اس کا ترک یعنی شملہ نہ چھوڑنا خلافِ اولیٰ اور مستحب کا ترک کرنا ہے ۔ امام شیخ کمال الدین محمد بن ابوشریف رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ امام نَوَوِی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی کے اس قول (کہ شملہ نہ لٹکانے میں کوئی کراہت نہیں ) کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہاں امام نَوَوِی  کی مراد ایسی کراہت ہے کہ جس کے متعلق حدیث ِمبارک میں نہی وارد ہوئی ہو۔ تو شملہ نہ لٹکانا اس معنی میں مکروہ نہیں ہے کیونکہ اگر شملہ نہ لٹکانے کی حدیث میں ممانعت ہوتی تو شملہ لٹکانے کو (صرف) مستحب اور اولیٰ قرار نہ دیا جاتا  اور اگر (امام نَوَوِی  کی عبارت میں ) مکروہ سے مراد وہ ہے جو خلافِ اولیٰ کو شامل ہوتا ہے جیسا کہ مُتَقَدِّمِین اُصُولِیِّین کی اِصطلاح ہے تو پھر (شملہ نہ لٹکانے) کا مکروہ بھی نہ ہونا ہم تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس معنی میں تو یہ مکروہ ہے کیونکہ یہ خلافِ اولیٰ اور مستحب کا ترک کرنا ہے۔ 
(صوب الغمامۃ فی ارسال طرف العمامۃ، ص۴ مخطوط مصور)