Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
144 - 479
حضرت علامہ شہاب الدین احمد بن حجر مکی شافعی  عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی شَمائِلِ تِرمِذِی کی شرح میں فرماتے ہیں : افضل یہ ہے کہ عمامے کا شملہ کندھوں کے درمیان ہو کیونکہ یہ خود نبی ٔاکرم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے فعل مبارک سے ثابت ہے،نیز (دو شملے لٹکانے میں ) اس بات کا بھی احتمال ہے کہ دونوں طرف (آگے اور پیچھے ) شملہ لٹکانا اس کے لئے سنّت ہو کہ جو دو شملے لٹکانا چاہے اور جو ایک ہی شملہ لٹکانا چاہے تو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ دونوں کندھوں کے مابین پشت پر لٹکائے۔ (اشرف الوسائل الی فہم الشمائل ، باب ماجاء فی عمامۃ رسول اللہ ، ص ۱۷۲، تحت الحدیث:۱۱۲) 
حکمِ شملہ کے متعلق ایک ضروری وضاحت 
	شَارِح صحیح مُسلِم امام ابو زَکریا محی الدین نَوَوِی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اپنی کتاب ’’اَلمَجمُوع شَرحُ المُھَذَّب‘‘ میں عمامے کے شملے کے متعلق لکھتے ہیں کہ عمامہ شریف کا شملہ لٹکانا اور نہ لٹکانا دونوں برابر ہیں اور ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی اختیار کرنا مکروہ نہیں ہے (یعنی نہ عمامہ کا شملہ لٹکانے میں کوئی کراہت ہے اور نہ ہی ترک کرنے میں کوئی کراہت ہے ) (المجموع شرح المھذب، ۴/۴۵۷) امام کمال الدین محمد بن ابوشریف القُدسی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی (مُتَوَفّٰی۹۰۵ھ) امام نَوَوِی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی کے اس کلام کے جواب میں فرماتے ہیں : عمامے کا شملہ لٹکانا