Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
143 - 479
 درمیان پشت پر لٹکانا مستحب ہے، سنّتِ مؤکدہ نہیں۔ ــ’’فَتَاوٰی حُجَّۃ ‘‘اور ’’جَامِع ‘‘ میں لکھا ہے کہ شملے کے ساتھ دورکعت (نماز پڑھنا) بغیر شملے کے ستر رکعات (نماز پڑھنے ) سے افضل ہے۔ 
(کشف الالتباس فی استحباب اللباس ، ذکر شملہ ، ص ۳۹ ملخصًا) 
	امامِ اہلِ سنّت ، سیّدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : عمامہ کا شملہ رکھنا سنّتِ عمامہ کی فرع اور سنّتِ غیر مؤکدہ ہے۔ یہاں تک کہ مرقاۃ میں فرمایا: قَد ثَبَتَ فِی السِّیَر بِرِوایاتٍ صَحِیحَۃٍ اَنَّ النَّبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کَان یَرخٰی عَلامتَہ اَحیَاناً بَینَ کَتِفَیہِ وَ اَحیَاناً یَلبَسُ العِمَامَۃَ مِن غَیرِ عَلامَۃٍ فَعُلِم اَنَّ الاِتیَانَ بِکُلِّ وَاحِدٍ مِّن تِلکَ الاُمُورِ سُنّّۃٌ (یعنی) کتب سِیر میں روایاتِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کبھی عمامہ کا شملہ دونوں کاندھوں کے درمیان چھوڑتے کبھی بغیر شملہ کے باندھتے۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان امور میں سے ہر ایک کو بجا لانا سنّت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب اللباس ، الفصل الثانی ۸/۱۴۶، تحت الحدیث:۴۳۳۹)  اس (شملے) کے ساتھ استہزا (مذاق) کو کفر ٹھہرایا کَمانَص عَلیہِ الفُقَھائُ الکِرَام وَاَمَرُوابِتَرکِہ حَیثُ یَستَھزِئُ بِہ العَوامُ کَیلَا یَقَعوا فِی الھَلاکِ بِسُوئِ الکَلام۔(فتاویٰ رضویہ، ۶/۲۰۸)