Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
142 - 479
کہ جس کا شملہ چار انگل یا اس سے کچھ زائد لٹکایا ، پھر ارشاد فرمایا: اس طرح عمامہ باندھو بے شک یہ سب سے خوبصورت اور حسین انداز ہے۔ (شعب الایمان، الاربعون من شعب الایمان وہو باب فی الملابس الخ ، فصل فی العمائم ، ۵/۱۷۴، حدیث: ۶۲۵۴) 
	شِملے کی شرعی حیثیت بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ امام شیخ کمال الدین محمد بن ابوشریف قُدسی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی (مُتَوَفّٰی، ۹۰۵ھ) فرماتے ہیں : ’’عمامے کا شملہ لٹکانا مستحب ہے۔‘‘ 
(صوب الغمامۃ فی ارسال طرف العمامۃ ، ص ۴ مخطوط مصور) 
	حضرت امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نقل فرماتے ہیں : ’’عمامہ شریف یوں باندھنا کہ جس میں نہ تو شملہ لٹکایا ہو اور نہ ہی تَحنِیک کی گئی ہو اس کو علماء مکروہ جانتے ہیں۔‘‘ (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ ، الباب الثانی فی العمامۃ والعذبۃ الخ ، ۷/۲۸۱) 
	خَاتَمُ المُحَدِّثِین حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : شملہ لٹکانا مستحب اور سننِ زوائد (یعنی سنّتِ غیر مؤکدہ) میں سے ہے۔ اسے ترک کرنے میں کوئی گناہ نہیں اگرچہ شملہ لٹکانے میں ثواب و فضیلت زیادہ ہے اور ’’اَلرَّوضَۃ‘‘ میں ہے : عما مے کا شملہ دونوں کندھوں کے