شملے کی شرعی حیثیت و مقدار
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عَذَبَہ یعنی شملہ عمامے کا ہی ایک حصہ ہے جس کی مقدار اور شرعی حیثیت کے متعلق مُحَدِّثینِ کرام نے مُفَصَّل کلام فرمایا ہے بلکہ خود صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان سے بھی بعض لوگوں نے اس کی کیفیت اور مقدار کے متعلق سوالات کیے ہیں جیسا کہ حدیثِ مبارک میں ہے چنانچہ
حضرت سیّدنا عثمان بن عطاء خُراسانی علَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِی اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے پاس مسجدِ منیٰ میں آیا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے عمامے کا شملہ لٹکانے کے متعلق سوال کیا تو حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا: بے شک رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس پر حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو امیر مقرر فرمایا اور انہیں جھنڈا بھی عطا فرمایا، پھر حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے حدیث بیان فرمائی کہ حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک سیاہ رنگا ہوا سُوتی عمامہ باندھ رکھا تھا تو رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے انہیں بلایا ، ان کا عمامہ کھولا پھر اپنے مبارک ہاتھوں سے اس طرح عمامہ باندھا