علماء کا عمامہ کیسا ہونا چاہئے؟
فُقَہائے کرام نے علماء و مُفتِیانِ عُظّام کے لئے مخصوص لباس پہننے کو مستحب قرار دیا ہے تاکہ لوگ اس لباس کے ذریعے انہیں بآسانی پہچان سکیں اور مسائل پوچھیں چنانچہ دُرِّمُختَار میں ہے:’’ یَحسُنُ لِلفُقَھَاءِ لَفُّ عِمَامَۃٍ طَوِیلَۃٍ وَلُبسُ ثِیَابٍ وَاسِعَۃٍ‘‘ یعنی فقہاء کے لیے اچھا عمل یہ ہے کہ وہ بڑا عمامہ باندھیں اور کھلا لباس پہنیں۔ علامہ سیّد محمد امین ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی اس عبارت کے تحت فرماتے ہیں : علمائے کرام بڑے عمامے باندھیں تاکہ اس سے ان کی پہچان ہو اور اگر کسی شہر میں چھوٹا عمامہ باندھنا ہی علماء کا عُرف ہو تو وہاں چھوٹا عمامہ باندھیں تاکہ ان کا عالم ہونا ظاہر ہو اور لوگ پہچان کر ان سے امورِ دین کے بارے میں مسائل پوچھیں۔
(درمختارو رد المحتار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/۵۸۶)
کروڑوں حَنَفیوں کے عظیم پیشوا ، اِمامُ الائمہ حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا: عَظِّمُوْا عَمَائِمَکُمْْ یعنی اپنے عماموں کو بڑا کرو اور وَوَسِّعُوْا اَکْمَامَکُم یعنی اپنی آستینوں کو وسیع کرو۔ علامہ بُرہانُ الدِّین زَرنُوجی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ’’سیّدنا امامِ اعظم عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الاَکرَم نے یہ اس لیے ارشاد فرمایا کہ لوگ علم اوراہلِ علم کو حقیر نہ جانیں۔‘‘ (تعلیم المتعلم ، فصل فی النیۃ فی حال التعلم، ص ۳۲)