عِمامہ وغیرہ کو بدبُو سے بچانے کا طریقہ
شیخِ طریقت، امیرِ اہلِسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ اپنی مشہورِ زمانہ تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘ جلد اوّل کے صفحہ 1223 پر عمامے شریف کے متعلق چند آداب اور احتیاطیں لکھتے ہوئے فرماتے ہیں : بعض اسلامی بھائی کافی بڑے سائز کا عمامہ شریف باندھنے کا جذبہ تو رکھتے ہیں مگر صفائی رکھنے میں کوتاہی کر جاتے ہیں اور یوں بسا اوقات لاشُعُوری میں مسجِد کے اندر ’’بدبُو‘‘پھیلانے کے جُرم میں پھنس جاتے ہیں۔ لہٰذا مَدَنی التِجا ہے کہ عمامہ، سر بند شریف اور چادر استِعمال کرنے والے اسلامی بھائی موسِم کے اعتِبار سے یا ضَرورتاً مزید جلدی جلدی انہیں دھونے کی ترکیب بناتے رہیں ، ورنہ مَیل کُچیل، پسینہ اورتَیل وغیرہ کے سبب ان چیزوں میں بد بو ہوجاتی ہے، اگر چِہ خود کو محسوس نہیں ہوتی مگر دوسروں کو بد بُو کے سبب کافی گِھن آتی ہے، خود کو اس لئے پتا نہیں چلتا کہ جس کے پاس زیادہ دیر تک کوئی مخصوص خوشبو یا بد بو ہو اِس سے اُس کی ناک اَٹ جاتی ہے ۔
عمامہ کیسا ہونا چاہئے؟
شیخِ طریقت، امیرِ اہلِسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ مزید فرماتے ہیں : سَخت ٹوپی پر بندھے بندھائے عمامے کا استِعمال اس کے اندر بد بُو پیدا کر سکتا ہے۔