انور سے عمامے کو رشکِ ماہ و مہر فرماتے رہتے، حتی کہ(بسا اوقات) وضو فرماتے وقت بھی عمامہ کو نہ توڑتے اسے سرِ منور سے اتار کر رکھتے، اس وجہ سے علماء نے عمامہ کو مطلقاً خاص کر نماز میں سنّت قرار دیا۔‘‘
(کشف الغمامہ عن سنیۃ العمامہ، ص ۱۴)
سرکار کا مسح فرمانے کا ایک انداز
حضرت سیّدنا عطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے وُضو فرمایا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے عمامہ شریف باندھ رکھا تھا، پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اپنا عمامہ شریف اوپر اُٹھایا اور سرِ اقدس کے اگلے حصے کا مسح فرمایا۔ (طبقات ابن سعد ،ذکر لباس رسول اللہ الخ، ۱/۳۵۲)
سرکار کا مسح فرمانے کا دوسراطریقہ
حضرت سیّدنا عطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے وُضو فرمایا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اپنے عمامہ مبارک کوکھول کر سرِ انور سے اُتارا اور سرِ اقدس کے اگلے حصے کا مسح فرمایا۔ (معرفۃ السنن والآثار، کتاب الطہارۃ، باب فریضۃ الوضوء فی غسل الوجہ ،۱/۱۶۰،حدیث:۵۹ مختصراً)