Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
136 - 479
عَلَیْہ کے متعلق حضرت سیّدناخالد بن دُرَیک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت سیّدنا عبداللہ بن مُحَیرِیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے فرمایا: لوگوں کی زبانوں کو مجھ سے روکو(یعنی وہ میرے حلیے کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ) تو میں نے ان کے لئے عمدہ مصری کپڑے کا عمامہ، چادرا ور قمیص خریدی اور انکی بارگاہ میں پیش کردی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شام کے وقت مذکورہ کپڑوں میں ملبوس تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا: اب لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کی، حضور وہ آپ کی تعریف کر رہے ہیں ، یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خوش ہو گئے حالانکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس سے پہلے گند می رنگ کا اونی لباس پہنا کرتے تھے۔ (حلیۃ الاولیائ، عبد اللہ بن محیریز، ۵/۱۵۹، رقم:۶۶۷۵) 
سرکار اکثر باعمامہ رہتے
	اُستَاذُالمُحَدِّثِین حضرت علامہ مفتی وصی احمد مُحدِّثِ سُورَتی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ’’سرورِ عالم حضورِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ہمیشہ باعمامہ نماز پڑھائی اور کسی صحیح حدیث میں وارد نہیں کہ آپ نے بغیر عمامہ امامت فرمائی بلکہ عادت شریف اور خَصلَتِ مُنِیف یہ تھی کہ ہر حالت میں سفر و حضر، گھر کے اندر اور گھر کے باہر، نماز و غیر نماز میں نری (صرف) ٹوپی سر پر نہ دیتے اورسرِ