الرِّضوَان کے پاس تشریف لے جانا چاہتے تو پانی میں دیکھ کر اپنے عمامے اور بالوں کو درست فرماتے۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہا نے عرض کی، کیا آپ بھی ایسا کرتے ہیں ؟ فرمایا، ہاں ، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ پسند فرماتا ہے کہ بندہ اپنے اسلامی بھائیوں کے پاس جانے کے لیے زینت اختیار کرے۔
دوسری حدیثِ صحیح میں ہے : اِنَّ اللہَ جَمِیلٌ یُحِبُّ الجَمَال یعنی بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ حسین ہے، حُسن و جمال کو پسند فرماتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: اِنَّ اللہَ نَظِیفٌ یُحِبُّ النَّظَافَۃَ یعنی یقینا اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی پاک ہے اور طہارت کو پسند فرماتا ہے۔ دوسری حدیثِ پاک میں ہے کہ حضرت سیّدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے کپڑے میلے تھے تو فرمایا : کیا اس کے پاس پانی نہیں جس سے اپنے کپڑے دھولے۔ ایک اور حدیثِ پاک میں ہے : اِنَّ اللہَ یُحِبُّ اَنْ یَّرٰی اَثرَ نِعمَتِہِ عَلٰی عَبدِہٖ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمت کے آثار اپنے بندے پر دیکھے۔
(المقالۃ العذبۃ فی العمامۃ و العذبۃ، ص ۸)
لوگوں کو غیبت سے بچانے کے لیے
عمدہ عمامہ باندھنا
جلیلُ القدر تابعی حضرت سیّدنا عبداللہ بِن مُحَیرِیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی