Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
134 - 479
سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے جب اپنے دولت کدے سے باہر تشریف لانے کا ارادہ فرمایا تو اپنے عمامہ شریف اور گیسوؤں کو درست فرمایا اور آئینہ میں اپنا مبارک چہرہ ملاحظہ فرمایا تو حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہا نے عرض کی : یارسول اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم)! کیا آپ بھی ایسا کر رہے ہیں ؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ہاں ! اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے کا اُس وقت کا بننا سنورنا پسند فرماتا ہے جب وہ اپنے بھائیوں کے پاس جانے لگے۔ (اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذم الجاہ والریاء ، بیان حقیقۃ الریاء الخ ، ۱۰/۹۳) 
تاج والے دیکھ کر تیرا عِمامہ نور کا
سرجھکاتے ہیں الٰہی بول بالا نور کا
	حضرت عَلَّامہ مُلّا علی قاری عَلَیہ رَحمَۃُاللہِ الْبَارِی آئینے میں دیکھ کر عمامہ درست کرنے کے متعلق لکھتے ہیں : جسم اور لباس کی خوبصورتی کے حوالے سے اچھی وضع قطع کے باب میں منقول ہے:اَ نَّہ صَلَّی اللہ عَلَیہ وَ سَلَّم کَانَ اِذَا اَرَادَ الخُرُوجَ عَلٰی اَصْحَابِہٖ نَظَرَ فِی الْمَائِ وَ سَوَّی عِمَامَتَہ وَ شَعْرَہ فَقَالَت لَہ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہَا اَوَ تَفعَلُ ذَالِکَ ؟ فَقَالَ: نَعَم، اِنَّ اللہَ تَعَالٰی یُحِبُّ لِلعَبدِ اَن یَّتَزَیَّنَ لِاخوَانِہ اِذَا خَرَجَ عَلَیہِم یعنی رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم جب صحابۂ کرام عَلَیہِمُ