سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے سربند کی برکت
امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر بن العزیز رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے کچھ تبرکات تھے ان تبرکات میں سے ایک قَطِیفَہ تھا (یہ وہ کپڑا تھا کہ جسے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم سرپر باندھتے) اس میں حضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے سر مبارک (میں لگے تیل) کی تراوَت (تَرا -وَت)کا اثر موجود تھا (یعنی تری تھی) ایک شخص بہت بیمار تھا اور اسے شفا نہ ہوتی تھی ۔اس نے امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر بن العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا تو انھوں نے اس قَطِیفَہ کو تھوڑا سا دھویا اور اس کا پانی اس کی ناک میں ٹپکا دیا ۔وہ بیمار تندرست ہو گیا۔ (مدارج النبوت، ۲/۶۰۸)
آئینے میں دیکھ کر عمامہ درست کرنا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامے کا خوبصورت ہونا کسی کے دل میں سنّت کی عظمت پیدا کر سکتا ہے لہٰذا ہمیں حدیثِ پاک اِنَّ اللہَ جَمِیلٌ یُحِبُّ الجَمَال یعنی: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے ۔‘‘ (مسلم ، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، ص ۶۰، حدیث: ۱۴۷) کے مطابق اپنے عمامہ شریف کو ضرور درست کر لینا چاہئے جیسا کہ ہمارے پیارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم فرمایا کرتے تھے چنانچہ