ہمارے پیارے پیارے آقا مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَسلَّم کی طبیعت مبارکہ انتہائی نَفاسَت پسند تھی اسی لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَسلَّم جب بھی سر مبارک میں تیل ڈالتے تو اپنے عمامہ مبارک اور اس کی ٹوپی شریف اور دیگر لباس کو تیل کے اثر سے بچانے کے لئے سر اقدس پرایک کپڑا لپیٹ لیاکرتے اورچونکہ تیل مبارک کا استعمال بہت زیادہ ہوتا اس لئے وہ مبارک کپڑا تیل شریف والا ہو جاتا۔ چنانچہ حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکْثِرُ الْقِنَاعَ کَاَنَّ ثَوْبَہُ ثَوْبُ زَیَّاتٍ یعنی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَسلَّم اکثر قِناع (سربند) استعمال فرماتے ، یہ رومال مبارک تیل والے کے کپڑے کی طرح تیل سے تر ہوا کرتا تھا۔ (الشمائل المحمدیہ ، باب ماجاء فی تقنع رسول اللہ، ص ۸۸، حدیث:۱۱۹)
تیل کی بوندیں ٹپکتی نہیں بالوں سے رضا
صبحِ عارِض پہ لُٹاتے ہیں ستارے گیسو
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گزشتہ حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ تیل ڈالنے کے بعد ٹوپی اور عمامہ کے نیچے کوئی کپڑا یا رومال رکھنا یا باندھنا سنّت ہے ۔ حضرت سیّدنا امام ترمذی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی نے سر بند باندھنے کی سنّت سے متعلق ’’شمائل ترمذی ‘‘میں ایک باب باندھا ہے ۔