Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
131 - 479
 استحباب اللباس، ذکر شملہ، ص ۳۹) نیز
	حضرت امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نقل فرماتے ہیں : ’’عمامہ بیٹھ کر باندھنے اور شلوار کھڑے ہو کر پہننے سے محتاجی اور بھول جانے کا مرض پیدا ہوتا ہے۔‘‘ (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ ، الباب الثانی فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/۲۸۲) 
اگر سُنّتیں سیکھنے کا ہے جذبہ			تم آجاؤ دیگا سِکھا مَدَنی ماحول
تُو داڑھی بڑھا لے عمامہ سجا لے		نہیں ہے یہ ہرگز بُرا مَدَنی ماحول
عمامہ باندھنے کے بعض آداب 
	خَاتَمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : عمامہ باطہارت اور قبلہ رو کھڑا ہو کر باندھے اور جب بھی کھولے تو پیچ پیچ کر کے کھولے یکبارگی نہ اتارے جیسے باندھنے میں پیچ پر پیچ دیا تھا اسی طریقے سے کھولے ، عمامہ باندھنے کے بعد آئینہ یا پانی یا اس کی مثل کسی (عکس دار) چیز میں دیکھ کر اس کو درست کرے اور عمامہ شملہ کے ساتھ باندھے ۔ 
(کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ذکر عمامہ، ص، ۳۸) 

سربند بھی سنّت ہے
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب بھی تیل لگائیں توعمامہ کے نیچے سربند باندھیے۔