Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
130 - 479
 میں باندھیں یا گھر میں۔ چنانچہ بَدرُالفُقَہاء حضرت علامہ مفتی محمد اجمل قادری رضوی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی لکھتے ہیں : عمامہ کھڑے ہو کر باندھا جائے ، مَوَاہِبِ لَدُنیَہ شریف میں ہے : فَعَلَیکَ بِاَن تَتَسَروَلَ قَاعِداً وَ تَتَعَمَّمَ قَائِماً یعنی تجھ پر لازم ہے کہ پاجامہ بیٹھ کر پہن اور عمامہ کھڑے ہو کر باندھ ۔(المواہب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، المقصد الثالث، النوع الثانی فی لباسہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ، ۲/۱۴۹) اب باقی رہا مسجد اور غیرِ مسجد کا فرق یہ کسی معتبر کتاب میں نظر سے نہیں گزرا ۔ (فتاویٰ اجملیہ ، ۱/۱۷۴) 
	اسی طرح شیخ و اُستادِ امیرِ اہلسنّت ، حضرت علامہ مفتی محمد وقارالدین قادری رضوی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : عمامہ کھڑے ہو کر باندھنا سنّت ہے، خواہ مسجد میں ہو یا گھر میں۔ حدیث میں ارشاد ہے کہ جو بیٹھ کر عمامہ باندھے گا یا کھڑے ہو کر پاجامہ پہنے گا تو کسی ایسی مصیبت میں گرفتار ہو گا جس سے چھٹکارا مشکل سے ہو گا۔ (وقارالفتاوی ، ۲/۲۵۲) 
بیٹھ کر عمامہ باندھنے کا نقصان 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلاعذر عمامہ بیٹھ کر نہیں باندھنا چاہئے۔ حدیث میں ہے: مَن تَعَمَّمَ قَاعِداً اَو تَسَروَلَ قَائِماً اِبتَلاہُ اللہُ تَعَالٰی بِبَلائٍ لَا دَوَائَ لَہ یعنی : جس نے بیٹھ کر عمامہ باندھا یا کھڑے ہو کر شلوار پہنی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ایسی مصیبت میں مبتلا فرما دے گا جس کی کوئی دوا نہیں۔ (کشف الالتباس فی