مدرسہ منظر الاسلام (بریلی شریف، ہند) کے ایک طالبِ علم عَینُ الیَقِین نے عمامہ باندھنے کا مسنون طریقہ پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: حدیث میں ہیـ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم یُحِبُّ التَّیَامُنَ فِی کُلِّ شَیئٍ حَتّٰی فِی تَنَعُّلِہ۔ (نصب الرایۃ ، کتاب الطہارات ، احادیث التثلیث الواردۃ الخ ، ۱/۸۰ مختصراً ، مسلم ، کتاب الطہارۃ، باب التیمن فی الطہور و غیرہ ، ص ۱۵۶، حدیث:۲۶۸ بالفاظ متقاربۃ) رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ سَلَّم ہر بات میں دہنی طرف سے ابتداء کو پسند فرماتے یہاں تک کہ جوتا پہننے میں۔ لہٰذا مناسب یہ ہے کہ عمامہ کا پہلا پیچ سر کی دہنی جانب جائے۔ واللہ تَعَالٰی اعلم (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/۱۹۹)
حضرت امام اِبنِِ حَجَر مَکِّی شَافَعِی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنے فتاوٰی میں علامہ ابنُ الحاج مالکی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ عمامہ باندھنے میں دیگر سنّتوں کا بھی اِلتِزام کیا جائے جیسے سیدھی جانب سے شروع کرنا، بِسْمِ اللہ پڑھنا ، لباس کی دعا پڑھنا نیز عمامہ کی متعلقہ سنّتوں مثلاً تَحنِیک، شملہ چھوڑنا اور سات ہاتھ یا اس کے برابر ہونا۔ پس لازم ہے کہ شلوار بیٹھ کر پہنو اور عمامہ کھڑے ہو کر باندھو۔ (الفتاوی الفقہیۃ الکبرٰی، ۱/۱۶۹ ملتقطاً)
عمامہ کھڑے ہو کر باندھئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف کھڑے ہو کر باندھنا چاہئے ، مسجد