گنبد نما ہوتی) چنانچہ علماء و شرفائے عرب اسی طرح عمامہ باندھتے ہیں۔
(کشف الالتباس فی استحباب اللباس،طریق عمامہ بستن، ص ۴۰)
اعلٰی حضرت کا عمامہ باندھنے کا انداز
میرے ا ٓقائے نعمت، سرکارِ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : ’’اس (عمامے) کی بندش گنبد نما ہو جس طرح فقیر باندھتا ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ۲۲/۱۸۶)
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، مَلِکُ العُلَماء سیّد محمد ظفرالدّین بہاری عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْبارِی سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا معمول نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں : چنانچہ (اعلیٰ حضرت کے ) عمامہ مبارکہ کا شملہ سیدھے شانہ پر رہتا، عمامہ مبارکہ کے پیچ سیدھی جانب ہوتے ، عمامہ مقدسہ کی بندش اس طور پر ہوتی کہ بائیں دست مبارک میں گردش اور داہنا دست مبارک پیشانی پر ہر پیچ کی گرفت کرتا تھا۔
ایک روز جناب سیِّد محمود جان صاحب نوری مرحوم و مغفور نے حضور (اعلیٰ حضرت) کے عمامہ باندھنے پر عرض کیا: حضور! عمامہ باندھنے میں الٹا ہاتھ کام کرتاہے؟ فرمایا : اگر سیدھا ہاتھ ہٹالیا جائے ،تو الٹے ہاتھ سے باندھ تو لیجئے۔ اصل بندش تو سیدھے ہی ہاتھ سے ہوتی ہے۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت ، ۱/۱۴۴)