Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
124 - 479
کرتے، جبکہ شملہ دونوں کندھوں کے درمیان لٹکاتے تھے۔ (شعب الایمان، باب فی الملابس الخ، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۴، حدیث: ۶۲۵۲، مجمع الزوائد، کتاب اللباس، باب ما جاء فی العمائم، ۵/۲۱۰، حدیث:۸۵۰۱) 
کس طرح نہ ہو منبعٔ انوار عمامہ
پہنے ہوئے ہیں سیّدِ ابرار عمامہ
	حضرت سیّدنا اَ بُوکَبشَہ اَنمَارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : کَانَت عِمَامۃُ رَسُولِ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّم بُطْحَۃً تَعنِی لَاطِئَۃً یعنی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کا عمامہ شریف سرِ اقدس سے بالکل ملا ہوتا تھا۔ (یعنی اونچا اور اُبھرا ہوا عمامہ شریف نہ باندھتے تھے) (جامع الاصول فی احادیث الرسول، الکتاب الاول فی اللباس الخ، الفصل الاول فی آداب اللبس الخ ، النوع الاول فی العمائم الخ، ۱۰/۵۸۳، حدیث: ۸۲۴۲) 
	مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’وطریق عمامہ بستن آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم گرد بود گنبد نما چنانچہ علماء و شرفاء عرب بآں دستور می بندند‘‘ یعنی نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم عمامہ شریف اس طرح باندھتے کہ وہ گول گنبد نما ہوتا (یعنی عمامہ کی شکل