Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
122 - 479
 اس فتوے کو خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے فتوے سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے چنانچہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : ’’تین پیچ اگر اس کپڑے سے لپیٹے جائیں تو عمامہ کے حکم میں ہے ورنہ کچھ نہیں۔‘‘ (فتاویٰ امجدیہ، ۱/۱۹۹) 
	حضرت علامہ امام اِبنِِ حَجَر مَکِّی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی عمامہ شریف کی مقدار کے متعلق سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : عمامہ شریف کی وہ مقدار کہ جس سے حدیث میں مذکور عمامہ کی فضیلت حاصل ہو یہ ہے کہ جسے عُرف میں عمامہ کہا جائے چاہے اس کی مقدار قلیل ہو یا کثیر ، عمامہ شریف باندھنے کا ثواب ملے گا۔ مزید حضرت علامہ ابنُ الحاج مالکی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ٹوپی پہننے سے عمامے کا ثواب نہیں ملے گا کیونکہ اسے عرف میں عمامہ نہیں کہا جاتا۔ (الفتاوی الفقہیۃ الکبرٰی، ۱/۱۶۹ ملتقطاً) 
	صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنی مشہورِ زمانہ تالیف بہارِ شریعت میں مِرقَاۃ شرح مِشکوٰۃ کے حوالے سے لکھتے ہیں : حضورِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کا چھوٹا عمامہ سات ہاتھ کا اور بڑا عمامہ بارہ ہاتھ (یعنی چھ گز) کا تھا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب اللباس ، الفصل الثانی، ۸/۱۴۸، تحت الحدیث:۴۳۴۰) مزید فرماتے ہیں : بس اسی سنّت کے مطابق عمامہ