Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
121 - 479
افسوس کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں۔‘‘ مولانا کے اس فرمان کی تمام علماء نے تائید کی ۔ (مکتوبات امام احمد رضا بریلوی ، ص ۱۸ ملخصا) 
عمامہ کتنا بڑا ہونا چاہئے؟ 
	میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : ’’ عمامہ میں سنّت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو ، نہ چھ گز سے زیادہ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ۲۲/۱۸۶) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بسا اوقات عمامہ شریف نہ ہونے کی صورت میں کچھ لوگ سر پر رومال یا اسی طرح کا کوئی کپڑا لپیٹ لیتے ہیں اس کے متعلق اعلیٰ حضرت عَلَیہ رَحمَۃُرَبِّ العِزَّت فرماتے ہیں : ’’ رومال اگر بڑا ہو کہ اتنے پیچ آ سکیں جو سر کو چھپا لیں تو وہ عمامہ ہی ہو گیا اور چھوٹا رومال جس سے صرف دو ایک پیچ آ سکیں لپیٹنا مکروہ ہے اور بغیر ٹوپی کے عمامہ بھی نہ چاہئے نہ کہ رومال۔ حدیث میں ہے: فَرقُ مَا بَینَنَا وَ بَینَ المُشرِکِینَ العَمَائِمُ عَلَی القَلَانِس (ابواداؤد، کتاب اللباس، باب فی العمائم، ۴/۷۶، حدیث:۴۰۷۸) یعنی : ہم میں اور مشرکوں میں ایک فرق یہ ہے کہ ہمارے عمامے ٹوپیوں پر ہوتے ہیں۔ واللہ تَعَالٰی اعلم
(فتاویٰ رضویہ ، ۷/۲۹۹)
	امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن کے