Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
120 - 479
تاجِ شاہی کا میں ،نہیں طالِب		کردو رحمت کی اِک نظر آقا
	اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُاللہِ الرَّحمٰن بھی اوسط (درمیانے سائز) کا عمامہ باندھا کرتے تھے۔ 
(امام احمد رضا اور ردِ بدعات و منکرات، ص ۲۰۰) 
	شیخِ طریقت، امیرِاہلِسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی  دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ بھی نہ صرف خود درمیانے سائز کا عمامہ شریف باندھتے ہیں بلکہ اپنے بیانات اور مدنی مذاکروں میں بارہا فرماتے ہیں : بہت بڑا عمامہ نہیں باندھنا چاہئے بلکہ عمامہ شریف درمیانے سائز کا ہو۔ اگر عمامہ شریف بڑا محسوس ہو تو اسے لمبائی میں درمیان سے کاٹ کر دو عمامے بنا لیجئے۔ 

آقا کے عمامہ شریف کے پیچ کتنے تھے؟
	دارالعلوم مُعِینیہ عثمانیہ اَجمیر شریف کے ایک امتحان کے موقع پر سابق صدر امور مذہبی حیدر آباد دکن نے اکابر علماء حضرت مولانا پیر سیّد مہر علی شاہ گولڑوی ، استاذالعلماء مولانا مشتاق احمد کانپوری ، حضرت مولانا سیّد سلیمان اشرف چیٔرمین اسلامک اسٹڈیز مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے دریافت کیا کہ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم کے عمامہ شریف میں کتنے پیچ ہوتے تھے۔ مولانا سیّد سلیمان اشرف نے فرمایا:’’ اس کا جواب صرف مولانا شاہ احمد رضا بریلوی قُدِّسَ سِرُّہُ دیتے مگر