Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
119 - 479
 وَاٰلہ وَسَلَّم کا عمامہ شریف نہ تو اتنا بڑا ہوتا کہ سر مبارک کو تکلیف دے اور اسے باندھنا اور سنبھالنا تکلیف دہ ہو جیسا کہ ہمارے زمانے میں دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اتنا چھوٹا ہوتا کہ گرمی، سردی سے سر کی حفاظت نہ کرسکے، بلکہ عمامہ مبارک درمیانہ ہوتا تھا۔ (المقالۃ العذبۃ فی العمامۃ و العذبۃ، ص ۱۴) 
	مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کا گھر میں باندھنے کا عمامہ شریف سات یا آٹھ ذِرَاع (گز) کا ہوتا جبکہ پانچوں نمازوں کے وقت بارہ گز، عید کے روز چودہ گز اور جنگ میں پندرہ گز تک کا عمامہ مبارک زیبِ سر فرماتے۔‘‘ 
(کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ذکر عمامہ، ص ۳۸) 
	یاد رہے!  ایک ذراع (ہاتھ) چوبیس انگلیوں کی تعداد کے برابر ہے جو موجودہ پیمانوں کے لحاظ سے تقریباً ڈیڑھ فٹ بنتا ہے۔ اس طرح سات ہاتھ والا عمامہ ساڑھے تین گز جبکہ بارہ ہاتھ لمبی مقدار چھ گز بنے گی، جبکہ میٹروں میں بالترتیب سوا تین اور ساڑھے پانچ گز تقریباًہو گی۔ 
(سبز عمامے کی برکتوں سے کذاب جل اٹھے، ص ۴۵) 

کیا عمامے کی ہو بیاں عظمت			تیری نعلین تاجِ سر آقا