میں بیان کیا ہے کہ احادیث و سیرت کی کتب میں اس کی تصریح نہیں ملتی۔ لیکن ہمارے بعض علمائے حنفیہ نے ذکر فرمایا کہ ’’جو عمامہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم ہمیشہ زیبِ سر فرماتے تھے وہ سات ذِرَاع کا تھااور جمعہ اور عیدین کے موقع پر بارہ ذِرَاع کا ہوتا۔‘‘ اس کی تائید امام جَزَرِی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوی کے قول سے بھی ملتی ہے جوا نہوں نے ’’ تَصحِیحُ المَصابِیح‘‘ میں بیان کیا ہے کہ میں نے کُتُب ِتاریخ و سِیَر کا مطالعہ اس لئے کیا تاکہ معلوم کر سکوں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے عمامہ شریف کی مقدار کیا تھی؟ مگر معلوم نہ ہو سکا، حتی کہ میرے بڑے مُعتَمَد اور ثِقَہ ساتھی نے بیان کیا کہ امام محی الدین نَوَوِی عَلَیہ رَحمَۃُاللہِ الْقَوی نے ذکر کیا ہے کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے دو عمامے تھے (1) چھوٹا عمامہ اور ( 2) بڑا عمامہ۔ چھوٹا عمامہ سات ذراع کا اور بڑا بارہ ذِرَاع کا ہوتا تھا۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ اس مذکورہ کلام سے معلوم ہوا کہ طول و عرض کے معاملہ میں ایسا کوئی کلام نہیں جس پر اعتماد کیا جاسکے لہٰذا عمامے کی لمبائی اپنے رہائشی علاقے کے علماء کی غالب اکثریت کی عادت کے مطابق رکھنی چاہیے۔
حضور عَلَیہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا عمامہ درمیانہ تھا
حضرت علامہ مُلَّا علی قاری عَلَیہ رَحمَۃُاللہِ الْبَارِی آخر میں فرماتے ہیں : اس مذکورہ بالا کلام سے اِجمالی طور پر یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ