حضرت، امامِ اہلسنّت، مجدِّدِ دین و ملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’عمامہ اَقدس کے طول میں کچھ ثابت نہیں۔ امام ابن الحاج مکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں ’’سات ہاتھ یا اس کے قریب تھا‘‘ اور حفظِ فقیر میں کلماتِ علماء سے ہے کہ کم از کم پانچ ہاتھ ہو اور زیادہ سے زیادہ بارہ ہاتھ اور شیخ عبدالحق کے رسالہ لباس میں اکتیس ہاتھ تک لکھا ہے اور ہے یہ کہ یہ امر عادت پر ہے جہاں علماء وعوام کی جیسی عادت ہو اور اس میں کوئی مَحذُورِ شرعی (یعنی منع ہونے کی شرعی وجہ) نہ ہو اُس قدر اختیار کریں۔ فَقَد نَصَّ العُلَمَائُ اَنَّ الْخُرُوجَ عَنِ العَادَۃِ شُہرَۃٌ وَمَکرُوہٌ۔ (الحدیقہ الندیۃ شرح الطریقہ المحمدیہ ، الصنف التاسع، ۲/۵۸۲) واللہ تعالٰی اعلم۔ اہلِ علم نے تصریح کی ہے کہ عادت سے باہر ہونا باعثِ شہرت اور مکروہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۲/۱۷۱ملخصاً)
حضرت عَلَّامہ مُلّا علی قاری عَلَیہ رَحمَۃُاللہِ الْبَارِی بعض محدثین سے نقل فرماتے ہیں کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے عمامہ شریف کی لمبائی یا چوڑائی کے متعلق ہمیں کوئی معلومات نہ مل سکی۔ (المقالۃ العذبۃ فی العمامۃ و العذبۃ، ص ۱۲) چند سطور بعد مزید فرماتے ہیں باقی رہا عمامہ کا طول و عرض تو اس کے متعلق حضرت سید جمال الدین مُحَدِّث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی کتاب ’’رَوضَۃُ الاَحبَاب‘‘