Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
116 - 479
 آفت کے گرفتار، جدھر جائیں گے سو ا نَفسِی نَفسِی اِذھَبُوا اِلٰی غَیرِی (مسلم ، کتاب الایمان ، باب اثبات الشفاعۃ الخ، ۱/۱۸۴) کچھ جواب نہ پائیں گے ،  اس وقت یہی محبوبِ غمگسار کام آئے گا ، قفل شفاعت اس کے زورِ بازو سے کُھل جائے گا ، عمامہ سرِاَقدس سے اتاریں گے اور سربسجود ہوکر ’’یَارَبِّ اُمَّتِی‘‘ فرمائیں گے ۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۳۰/۷۱۷) 
	اَحادِیث و شَمائِل اور سیرت کی کُتُب میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے عمامۂ خوشبودار کا مُفَصَّل بیان موجود ہے کہیں حضور عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عمامہ شریف کی لمبائی کا ذکر ہے تو کہیں باندھنے کا اَنداز لکھا ہوا ہے ۔ کہیں عمامہ شریف کے شملے کا ذکرِ خیر ہے تو کہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے عمامہ مبارک کے مختلف رنگوں کو بیان کیا گیا ہے ۔ سب سے پہلے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے عمامہ شریف کی لمبائی کا ذکر کیا جارہا ہے۔ 

آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے عمامہ مبارک کی لمبائی 
	حُضورِ پُرنور ، شَافِعِ یَومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کا عمامہ مبارک کتنے گز کا تھا اس کے متعلق علمائے کرام و مُحدثینِ عُظّام میں اختلاف ہے۔ بعض علماء و محدثین فرماتے ہیں کہ اس بارے میں کوئی مقدار مُعَیَّن نہیں ہے ، جبکہ بعض نے عمامہ مبارک کی لمبائی بیان فرمائی ہے ۔ چنانچہ میرے آقا اعلیٰ