Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
115 - 479
لعن قتلۃ عثمان ودعائہ علیہم،۱/۲۳۰)
پیچ کرتا ہے فدا ہونے کو لمعَہ نور کا
گِردِ سر پھرنے کو بنتا ہے عمامَہ نور کا
عید کے دن عمامہ شریف
	حضرت سیّدنا جَعْفَر بن مُحَمَّد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَ سَلَّم یَعْتَمُّ فِی کُلِّ عِید یعنی: نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم ہر عید پر عمامہ شریف باندھا کرتے تھے۔ (سنن کبری للبیہقی، کتاب صلاۃ العیدین، باب الزینۃ للعید، ۳/۳۹۷، حدیث:۶۱۳۸) 
قیامت میں سرِاقدس پر عمامہ 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف کی سنّت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کس قدر مقبول ہے کہ بروزِ محشر بھی اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم کو عمامہ شریف سے مُشَرَّف فرمائے گا چنانچہ 
	اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُاللہِ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : قیامت کے روز کہ عجب سختی کا دن ہے ، تانبے کی زمین ، ننگے پاؤں ، زبانیں پیاس سے باہر، آفتاب سروں پر، سائے کا پتہ نہیں ، حساب کا دَغدَغَہ (یعنی خوف) ، مَلِکِ قہار کا سامنا ،عالَم اپنی فکر میں گرفتار ہو گا ، مجرمانِ بے یار دامِ