Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
114 - 479
حضورکا نورانی عمامہ
	امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کے بعد حضرتِ سیّدنا عبداللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے ایک خواب دیکھا چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما ارشاد فرماتے ہیں :میں نے حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو خواب میں ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار کہیں تشریف لے جاتے دیکھا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے سرِ انور پر نورانی عمامہ شریف جگمگارہا تھا۔ قَدَمَین شَرِیفَین میں سبزگھاس سے بنے ایسے مبارک جوتے پہن رکھے تھے جن کے تَسمے چمکدار موتیوں سے مُزَیَّن تھے نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے جنّتی درخت کی ایک شاخ بھی تھام رکھی تھی ۔ میں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی بارگاہ میں سلام عرض کیا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے جواب عنایت فرمایا۔پھر میں نے عرض کی: یارسول اللہ! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) میرے ماں باپ آپ پر قربان ، میں آپ کی زیارت کے لیے بے تاب ہوں جبکہ آپ جلدی میں کہیں تشریف لے جا رہے ہیں ؟ یہ سن کر نبیٔ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم میری طرف متوجہ ہوئے اور مسکرا کر ارشاد فرمایا: بیشک عثمان (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ )کو جنت میں عالیشان دولہا بنایا گیا ہے، میں اسی دعوت میں جارہاہوں۔ (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، ذکر