Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
113 - 479
عَلِیٌّ قَد اَقبَلَ فِی السَّحَابِ یعنی یہ علی ہیں جو کہ’’ سحاب‘‘ میں آئے ہیں۔ (اخلاق النبی و آدابہ ،ذکر عمامتہ  صَلَّی اللہ علیہ وسلَّم، ص ۶۹، حدیث:۲۹۷) 
	تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم عمامہ شریف کے نیچے ٹوپی پہنا کرتے تھے اور (کبھی کبھار) بغیر عمامہ کے صرف ٹوپی بھی پہن لیا کرتے تھے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ سرِ اقدس سے ٹوپی اتار کر اپنے آگے سُترہ (یعنی آڑ) بناتے اور پھر اس کے سامنے نماز ادا فرماتے اور اگر کبھی عمامہ شریف موجود نہ ہوتا تو مُقَدَّس سر اور مبارک پیشانی پر رومال باندھ لیا کرتے تھے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب آداب المعیشۃ و اخلاق النبوۃ، بیان آدابہ و اخلاقہ فی اللباس ، ۲/۴۶۲) 
علم کی اہمیت
حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنھ سے مرفوعاً روایت ہے کہ خاتم المرسلین ، رحمۃ للعلمین صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : انسان تو دو ہی ہیں : عالم دین اور طالب علم اور ان کے علاوہ کسی میں بھلائی نہیں۔ (معجم کبیر ،حدیث ۴۶۱ ۲۰، ج ۱۰، ص ۲۰۱)