Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
112 - 479
کے عمامے شریف کا نام’’ سَحاب ‘‘ تھا جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجہَہُ الکَرِیم کو عطا فرما دیا تھا۔ (وسائل الوصول الی شمائل الرسول، الباب الثّالث فی صفۃ لباس رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم الخ، الفصل الاوّل فی صفۃ لباسہ الخ، ص ۱۱۹) 
شان کیا پیارے عمامے کی بیاں ہو یانبی
تیری نعلِ پاک کا ہر ذرَّہ رشکِ طور ہے
	حضرت سیّدنا عبداللہ بن محمد بن جعفر اَصبَہَانی روایت نقل فرماتے ہیں کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجہَہُ الکَرِیم کو (اپنا) عمامہ پہنایا جسے سحاب کہا جاتا تھا ۔ حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجہَہُ الکَرِیم وہی عمامہ شریف سجائے حاضرِ بارگاہ ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان  سے فرمایا ہٰذَا 


امامِ اہلسنّت سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی نبی ٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے علمِ غیب پر وہ معرکۃ الآرا کتاب ہے جو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مکۃ المکرمہ کے علماء و مفتیانِ کرام کے کہنے پر بغیر کتابوں کے فقط اپنی قوتِ حافظہ سے عربی زبان میں صرف آٹھ گھنٹوں میں لکھی تھی۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پر 81 عرب علماء و مفتیانِ کرام کی تقاریظ ہیں۔)تاریخ الدولۃ المکیۃ ،ص ۹۸)