Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
111 - 479
روایتوں سے عمامہ کی فضیلت مطلقاً ثابت ہوتی ہے اور بچوں کو عمامہ نہ پہنانے کی کوئی روایت نہیں ہے۔ واللہُ تَعَالٰی اعلم (فتاویٰ بحرالعلوم، ۵/۴۱۱ تا ۴۱۳) 
	اَ لحَمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت مدارس المدینہ میں تجوید کے ساتھ قراٰنِ مجید حفظ و ناظرہ کی سعادت پانے والے ہزاروں مدنی منّے بھی سبز سبز عمامے سجاتے ہیں۔ 
نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے عمامہ شریف کا نام
	پیکرِ اَنوار، تمام نبیوں کے سردار، صاحبِ عمامۂ نور بار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم مختلف مواقع پر علیحدہ علیحدہ عمامہ شریف استعمال فرمایا کرتے تھے نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کی عادتِ مبارکہ تھی کہ اپنے استعمال کی اشیاء کے مختلف نام رکھ دیا کرتے تھے جیسا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کی ایک تلوار کا نام اَلبَتَّار اور دوسری کا نام ذوالفقار تھا۔ (خلاصۃ سیرسیدالبشر، الفصل الثانی والعشرون فی ذکر سلاحہ، ص ۲۵۹، ۲۵۸) 
	اسی طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے اپنے عمامہ شریف کا بھی نام رکھا ہوا تھا چنانچہ 
	مُقَرِّظِ دَولَۃُ المَکِّیَّہ(1)، فَنَا فِی الرَّسُول ، حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نَبہَانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں : نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم 

1…یعنی دَولَۃُ المَکِّیَّہ کی تائید اور اس کے مصنف کی تعریف کرنے والے۔ دَولَۃُ المَکِّیَّہ