پیشِ نظر عمامہ شریف باندھ کر ہی مسجد ِ نبوی زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں داخل ہوتا تھا۔ (نظام حکومۃ النبویۃ، باب فی تعمیم الامام للصبی، ۱/۲۶۷ ملتقطًا)
عمامے کی بچپن سے عادت ڈالئے
بَحرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی سے بچوں کے عمامہ باندھنے کے متعلق کیے گئے سوال و جواب ذیل میں مذکور ہیں چنانچہ
(۱) بچوں کو عمامہ باندھنا کیسا ہے؟
(۲) ایک صاحب نے بچوں کے سر سے عمامہ اتروادیا اور کہا کہ بچوں کو عمامہ نہیں باندھنا چاہیے۔
الجواب: عمامہ باندھنا سنّت ہے، تو بچپن سے ہی اس کی عادت ضرور ڈالنی چاہیے جس نے بچوں کا عمامہ کُھلوا دیا اس سے پوچھئے یہ کہاں لکھا ہے اور مجبور کیجئے کہ اپنی بات قرآن و حدیث یا اقوالِ فُقَہاء سے ثابت کرے تو اسے پتا چلے گا کہ بے علم کا فتویٰ بتانا کتنی بڑی جہالت ہے۔ غالباً شَرحُ شِرعَۃِ الاِسلام (1) میں لکھا ہے :’’ لُبسُ العِمَامَۃِ حِلمٌ وَ وَقَارٌ وَ ھِیَ تِیجَانُ العَرَب‘‘ عمامہ کاپہننا حلم و وقار ہے، اور یہ اہلِ عرب کا تاج ہے ، عمامہ عرب والوں کا مخصوص لباس ہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ واٰلہ وَسَلَّم نے اسے فرشتوں کا لباس بتایا ہے، الغرض ان
1… مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام ، فصل فی سنن اللباس الخ ، ص ۳۱۸