Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
109 - 479
 باندھا کرتے تھے حالانکہ میں ابھی بَچّہ ہی تھا۔ (آپ مزید فرماتے ہیں کہ) میں بچّوں کو عمامے سجائے دیکھا کرتا تھا۔ 
(طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الرابعۃ من التابعین من اہل المدینۃ، ۵/۳۴۸) 
امام مالک کا بچپن سے عمامہ باندھنا 
	حضرت سیّدنا عبد العزیز اویسی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : امام مالک رَحمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا: ہمیں عمامہ شریف باندھنا ترک نہیں کرنا چاہئے اور میں تو اس وقت سے عمامہ شریف باندھ رہا ہوں جب کہ میرے چہرے پر ایک بال بھی نہیں آیا تھا۔ (تاریخ اسلام ، ۸/۴۲۱، فیض القدیر، حرف الصاد، ۴/۲۹۷، تحت الحدیث: ۵۱۰۱) 
	خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ عبدالحی کَتَّانی رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں : اہلِ حجاز اب بھی چھوٹے بچوں کو عمامہ باندھتے ہیں ، گویا یہ ان کا زمانہ قدیم سے دَستُور چلا آ رہا ہے، مزید فرماتے ہیں مدارک میں ہے حضرت سیّدنا ابو مُصعَب رَحمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا: میں نے حضرت سیّدنا امام مالک عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْخَالِق کو فرماتے سنا آپ نے فرمایا مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اس وقت سے عمامہ شریف باندھ رہا ہوں جبکہ میرے چہرے پر ایک بال بھی نہ آیا تھا۔ ہم میں سے ہر ایک رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی تعظیم و عظمت کے