Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
108 - 479
 مبارک ہاتھوں سے ایک حقیقی مدنی منّے کے سر پر عمامہ شریف باندھا تھا چنانچہ 
مَدَنی منّے کی دستار بندی 
	حضرت علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ حضرت قُرْط ( یا قُرَیط) بن ابو رِمثَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ نے اپنے والد کے ہمراہ (مدینۂ مُنَوَّرَہ) ہجرت کی، جب یہ لوگ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ابورِمثَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ سے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ ابو رِمثَہ نے عرض کی : جی ہاں میں اس کا گواہ ہوں ، آپ نے فرمایا یہ تجھ پر اِلزام نہیں لگائے گا نہ اس پر اِلزام ہوگا اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے حضرت قُرط رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ کو بلا کر اپنی گود میں بٹھایا، ان کے لیے برکت کی دعا کی، سر پر ہاتھ پھیرا اور انہیں سیاہ عمامہ شریف باندھا۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف القاف، القسم الثانی فی ذکر من لہ رؤیۃ ، ۵/۳۹۱، رقم: ۷۲۸۸) 
مدینہ شریف کے باعمامہ مدنی منّے
	حضرت سیّدنا ابراہیم بن سعد عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الاَحَد فرماتے ہیں : میرے والد صاحب کے اس اس طرح کے عمامے تھے میں ان کی تعداد نہیں جانتا۔ والد صاحب نہ صرف خود عمامہ شریف پابندی سے باندھتے تھے بلکہ مجھے بھی عمامہ