ایک سوال (عام مسلمان یعنی غیر عالم کو عمامہ باندھنا سنّت ہے یا نہیں ؟) کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : ہر مسلمان چاہے عالم ہویا غیرِ عالم اسے عمامہ باندھنا سنّت ہے، امام بیہقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شُعَبُ الایمَان میں حضرت (سیّدنا) عُبادہ بن صامِت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا کہ عمامہ باندھنا اِختیار کرو کہ یہ فرشتوں کا نشان ہے، اور اس کو پیٹھ کے پیچھے لٹکالو۔ (شعب الایمان، باب فی الملابس ، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۶، حدیث:۶۲۶۲، بہار شریعت ، ۳/۴۰۴) اسی میں (صفحہ ۴۱۸) میں ہے کہ عمامہ باندھنا سنّت ہے۔ ان احکام سے یہی ظاہر ہے کہ مسلمان خواہ عالم ہو یا چاہے جاہل سب کو عمامہ باندھنے کا حکم ہے۔ (فتاویٰ بحرالعلوم، ۵/۴۱۱)
عمامہ کس عمر میں باندھا جائے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا عمامہ شریف کے فضائل جان کر تو بچّے ، بوڑھے ، جوان سبھی کا عمامہ سجانے کو جی چاہتا ہے لیکن بعض اوقات گھر میں مدنی منّے عمامہ سجانے کا کہتے ہیں تو انہیں منع کر دیا جاتا ہے کہ ابھی تمہاری عمامہ باندھنے کی عمر نہیں ہوئی، جب داڑھی آجائے تو عمامہ باندھنا۔ حالانکہ یہ خیال درست نہیں کیونکہ عمامہ شریف باندھنے کی شرعی طور پر کوئی عمر مقرر نہیں کی گئی بلکہ ہمارے پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے خود اپنے