Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
106 - 479
ماحول کی بھی کیا خوب مدنی بہاریں ہیں ! مذکورہ وِرد کرنے کے اوقات یعنی ’’ صبح و شام‘‘ کی تعریف بھی سمجھ لیجئے، چُنانچِہ مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ ’’اَلوَظِیفَۃُ الکَرِیمَہ‘‘ صَفحہ 12پر ہے:آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کرن چمکنے تک ’’صُبح ‘‘ہے۔ اس سارے وَقفے میں جو کچھ پڑھا جائے اُسے صُبح میں پڑھنا کہیں گے اوردوپَہَر ڈھلے (یعنی ابتِدائے وقتِ ظُہر) سے لے کر غُرُوبِ آفتاب تک ’’شام ‘‘ہے۔ اِس پورے وَقفے میں جو کچھ پڑھا جائے اُسے شام میں پڑھنا کہیں گے۔ 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد 

کیا عمامہ صرف علماء ہی باندہیں ؟
	حضرت علامہ مفتی محمد وقارُا لدین قادری رضوی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : عمامہ صرف علماء و مشائخ ہی کے لئے نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے سنّت ہے اور عمامہ کی فضیلت اور عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے کی فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہے اس لئے ہر بالغ مرد کے لئے عمامہ باندھنا ثواب کا کام ہے اور اچھے کام کی عادت ڈالنے کے لئے بچوں کو بھی اس کی تعلیم دینی چاہئے۔ (وقارالفتاوی ، ۲/۲۵۲) 
	
بَحرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی  عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی