سونے کا لاکِٹ نیچے میرے پاؤں کی طرف پھینک دیا( اِس کا علم مجھے بعد میں ہوا) بہرحال ڈاکو لوٹ مار کرنے کے بعد بس سے اُترے اور فِرار ہوگئے۔ اب بس کے لُٹے ہوئے مُسافروں کی آواز نکلی ، شور وغُل اور وَاویلا شُروع ہو گیا ، کسی نے میری طرف اشارہ کر کے چِلّا کر کہا : اِس مولانا کو پکڑ لو یہ ڈاکوؤں کا آدمی معلوم ہوتا ہے کیوں کہ ہم سب کو لُوٹا اس کو نہیں لوٹا، میں ڈر گیا کہ اب گئے! یہ لوگ کہیں مجھے توڑ پھوڑ نہ ڈالیں ، یکایک غیبی مدد یوں آئی کہ انہیں مسافِروں میں سے کسی نے کچھ اس طرح کہا: نہیں نہیں بھائیو! یہ شریف آدمی ہے ،اِ س کا لباس اور چِہرہ نہیں دیکھتے! بس اِس کی نیکی آڑے آ گئی اور بچ گیا،ہم لوگ گنہگار ہیں ، ہمیں گناہوں کی سزا ملی ہے۔ ان اسلامی بھائی کا مزید بیان ہے: اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ پہلے ڈاکوؤں سے حفاظت ہوئی اور بعد میں لُٹے ہوئے مسافروں کی طرف سے آنے والی شامت دُور ہوئی۔ یہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت کی ’’ مَدَنی بہار‘‘ ہے کہ میں داڑھی، زلفوں اور عمامہ شریف کا تاج سجائے سنتوں بھرے لباس میں ملبوس رہتا ہوں ورنہ مجھے بھی شاید بے دردی سے لوٹ لیا جاتا۔ مَدَنی ماحول سے وابَستگی سے قبل میں فُل ماڈَرن رہتا اور اسٹیج ڈراموں میں کام کیا کرتا تھا۔ اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کرم ہوا کہ مجھ گنہگار کو دعوتِ اسلامی نے توبہ کا راستہ دکھایا ، نَمازی بنایا، سنّتوں کا رنگ چڑھا یا، حُضُور غوثِ پاکرضی اللہ تعالی عنھ کے سلسلے میں مُرید بننے کا