اِس طرح بیان ہے کہ ایک بار میں جیب میں کافی رقم لئے حیدرآباد( بابُ الاسلام سندھ پاکستان) سے بابُ المدینہ کراچی آنے کیلئے بس میں سُوار ہوا۔بس ابھی بمشکل آدھا گھنٹہ چلی ہو گی کہ اچانک مختلف نِشَستوں سے چار پانچ افراد ایک دم اسلحہ (اَس۔لَ۔حہ) تان کر کھڑے ہو گئے۔ ان میں جو سب سے قد آور تھا اُس نے لپک کر ڈرائیور کو ایک زور دار طمانچہ جَڑ دیا اور اسے دھکیل کر ڈرائیونگ سیٹ پر قَابِض ہو گیا،بَس ایک کچّے راستے میں اُتار دی گئی، اب ڈاکوؤں نے چلتی بس میں ہرایک کی جامہ تلاشی لینی اورلوٹناشُروع کر دیا۔بس میں شدیدخوف وہراس تھا، میں بھی ایک دم سہما ہوا تھا،میری اگلی نِشَست پر مضبوط قدوقامت کے نوجوان بیٹھے تھے اور مجھے اندیشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ڈاکوؤں کے خلاف مُزاحَمَت کریں اور وہ گولی چلا دیں۔ بہرحال میں نے احتیاطاً تجدیدِ ایمان کرنے کے بعد آنکھیں بند کرلیں ، میرے برابر جو صاحِب بیٹھے ہوئے تھے ایک ڈاکو نے اُن کی تلاشی لی او ر جوہاتھ آیا چھین لیا۔مگر مجھے ہاتھ نہ لگایا،دوسرا ڈاکو آیا اُس نے بھی انہیں صاحِب کی تلاشی لی، مزید اُن کی کسی جیب سے 100 روپے کا نوٹ برآمد ہوا وہ بھی لُوٹ لیا اور مجھے چَھیڑے بِغیر جانے لگا ، تیسرے ڈاکو نے میری طرف اشارہ کرکے آواز دی مولانا صاحِب کو مت لُوٹنا یہ دیکھ کر میرے پیچھے بیٹھے ہوئے کسی مُسافر نے موقع پا کر اپنی رقم کی گڈّی میری پیٹھ کی طرف کُرتے کے اندرسَرکا دی ، کسی خاتون نے پیچھے سے