Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
102 - 479
{6} حضرت سیّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم جمعہ کے دن ہمارے پاس عمامہ شریف باندھ کر ہی تشریف لاتے اور (عام دنوں میں ) کبھی کبھار تہبند و چادر مبارک میں تشریف لاتے اور اگر (جمعہ کے روز) کبھی عمامہ شریف نہ پاتے تو مختلف کپڑے جوڑ کر ان کا عمامہ باندھ لیا کرتے۔ (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ ، الباب الثانی فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/۲۷۱) 
باعمامہ اسلامی بھائی لُٹنے سے بچ گئے
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بالیقین عمامہ شریف سجانے سے نیکیوں میں خوب اضافہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات تو عمامہ شریف کی سنّت پر عمل کی برکات کا یوں ظہور ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  دنیوی نقصان سے بھی محفوظ فرمادیتا ہے جیسا کہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنی شہرۂ آفاق تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘کے باب ’’نیکی کی دعوت ‘‘میں فرماتے ہیں : داڑھی، زلفوں سے مُزَیَّن سنّتوں بھرے لباس میں ملبوس با عِمامہ رہنے والے ایک مبلِّغِ دعوتِ اسلامی جوکہ ’’ مَدَنی اِنعامات ‘‘ کے عامل ہونے کے ساتھ ساتھ تنظیمی طور پر اِس کے ذِمّے دار بھی ہیں۔ان کا کچھ