(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم من اہوال القیامۃ،ص63)
حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہنس رہا ہے فرمایا:اے جوان!کیا تو پل صراط سے گزر چکا ہے ؟ اس نے کہا نہیں! فرمایا:کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرا ٹھکانا جنت ہے یا دوزخ ؟ اس نے کہا :نہیں!فرمایا: پھر یہ ہنسنا کیسا ہے ؟ پھر وہ شخص کبھی ہنستا ہوا نہیں دیکھا گیا ۔
(احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجاء،بیان احوال الصحابۃ...الخ،ج4،ص227)
حضر ت سری سقطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ہر روز اپنی ناک کو کئی بار دیکھتا ہوں اس خوف سے کہ میرا منہ سیاہ نہ ہوگیا ہو ۔
(الرسالۃ القشیریۃ،باب فی ذکر مشایخ ہذہ الطریقۃ،ابوالحسن سری بن مغلس السقطی،ص29)
اللہ اکبر! یہ ہیں پیشوائے دین ۔
حضرت زرارہ بن ابی اوفی نے فجر کی نماز پڑھی اور جب یہ آیت پڑھی:
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾
ترجمہ کنزالایمان: پھر جب صور پھونکا جائے گا۔
توبے ہوش ہوکر گرے جب آپ کو اُٹھایا گیاتو میّت پائے گئے۔
(احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجاء،بیان احوال الصحابۃ...الخ،ج4،ص229)
بعض سلف جب آگ دیکھتے یا چراغ جلاتے تو جہنم کو یاد کرکے صبح تک روتے رہتے ۔