Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
66 - 78
جب اپنی لغزش یاد کرتے تو آپ کو غشی ہوجاتی اور آپ کے دل کی آواز ایک میل تک سنائی دیتی ۔ ایک دن حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
ھل رأیت خلیلا یخاف خلیلہ
کیا تونے کوئی دوست دیکھا ہے جو اپنے دوست سے ڈرتا ہو ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:اذا ذکرت خطیئتی نسیت خلتی جب مجھے اپنی لغزش یاد آتی ہے تو خلت بھول جاتی ہے ۔
 (احیاء علوم الدین،کتاب الخوف،بیان احوال الانبیاء...الخ،ج4،ص226)
    حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک دن فجرکی نماز پڑھائی توآپ نے سورہ یٰسۤ تلاوت کی جب آپ اس آیت پر پہنچے
  اِنۡ کَانَتْ  اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً  فَاِذَا ہُمْ جَمِیۡعٌ لَّدَیۡنَا مُحْضَرُوۡنَ ﴿۵۳﴾
 (پ23،یسۤ:53)
ترجمہ کنزالایمان: وہ تو نہ ہوگی مگر ایک چنگھاڑ جبھی وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر ہو جائیں گے۔

تو ان کا لڑکاعلی بے ہوش ہوکر گرا اور سورج طلوع ہونے تک اس کو افاقہ نہ ہوا ۔
    حضرت علی بن فضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب کوئی سورت پڑھنے لگتے تو اسے ختم نہ کرسکتے اور سورہ اذا زلزلت اور سورۃ القارعۃ تو سن ہی نہیں سکتے تھے ۔جب وہ فوت ہوئے تو ان کا باپ فضیل ہنسا لوگوں نے پوچھا تو فرمایا:اللہ عزوجل نے اس کی موت کو پسند کیا تواللہ عزوجل کے پسند کرنے کے لئے میں نے پسند کیا۔
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم من اہوال القیامۃ،ص62)
    حضرت میمون بن مہران رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو سنا کہ وہ پڑھ رہا تھا:
Flag Counter