حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک دن فجرکی نماز پڑھائی توآپ نے سورہ یٰسۤ تلاوت کی جب آپ اس آیت پر پہنچے
اِنۡ کَانَتْ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ جَمِیۡعٌ لَّدَیۡنَا مُحْضَرُوۡنَ ﴿۵۳﴾
ترجمہ کنزالایمان: وہ تو نہ ہوگی مگر ایک چنگھاڑ جبھی وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر ہو جائیں گے۔
تو ان کا لڑکاعلی بے ہوش ہوکر گرا اور سورج طلوع ہونے تک اس کو افاقہ نہ ہوا ۔
حضرت علی بن فضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب کوئی سورت پڑھنے لگتے تو اسے ختم نہ کرسکتے اور سورہ اذا زلزلت اور سورۃ القارعۃ تو سن ہی نہیں سکتے تھے ۔جب وہ فوت ہوئے تو ان کا باپ فضیل ہنسا لوگوں نے پوچھا تو فرمایا:اللہ عزوجل نے اس کی موت کو پسند کیا تواللہ عزوجل کے پسند کرنے کے لئے میں نے پسند کیا۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم من اہوال القیامۃ،ص62)
حضرت میمون بن مہران رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو سنا کہ وہ پڑھ رہا تھا: